میں پختون مسلمان ہوں، ہمت ہے تو سامنے سے وار کر
مظلوم بھی پختون، مقتول بھی پختون، دہشتگردی کا شکرا بھی پختون اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دہشت گرد پھر بھی پختون !
اس مائنڈ سیٹ،اور منصوبہ بندی کے تحت پختون مسلمانوں کو دہشت گردی کا لیبل کیوں لگایا گیا ہے؟غیر تو غیر جب میرے اپنے بھی دہشت گردی کی تعریف کرتے ہیں اور ان کا حلیہ اور کلچر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں تو مجھ پر وہ تعریف صادق کیوں آتی ہے؟ اس حلیہ کو دیکھ کر اندھے بھی سمجھتے ہیں۔تو دجالی آنکھوں سے دیکھنے والا تو مجھے بطریق اولی دہشت گرد ہی تسلیم کریں گا۔ تو پھر میں کیوں نا کہوں ۔
مجھے اپنو نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا
آخر ایسا کیوں ہے؟ آخر اس قوم سے کیا گناہ سرزد ہوا ہے؟
میں بتا تا ہوں اس قوم کا گنا ہ کیا ہے؟
میں بتا تا ہوں اس قوم کے جرائم کیا ہے؟
میں بتا تا ہوں اس قوم کی غلطیاں کیا ہے؟
گزشتہ دو صدیوں سے دنیا کفر کے تین سپر پاوروں،اور سرماوں کو اگر شکست دی ہے تو انہیی پختون مسلمانوں نے۔(یہی ان کا سب سے بڑا جرم ہے )افغانستان ہو یا پاکستان کے قبائلی بیلڈ سے اگر ان کا جنازہ نکالا ہے تو انہی پختون مسلمانوں نے۔(یہی ان کا سب سے بڑا جرم ہے) کہ اپنی دفاع کے خاطر اس قوم نے بزور بازو بغیر کسی بارود و جدید اسلحے کے دنیاء کفر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کو بد ترین شکست دی ہے۔
پہلا نمبر برطانیہ کے حصے میں آیا کہ جس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا کہا جاتا ہے کہ اتنی بڑی سلطنت تھی کہ ایک مقام پر سورج غروب ہوتا تو دوسرے مقام پر سورج طلوع ہوجایا کرتا تھا اپنی کبریائی پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا ان کے اس ناز اور گھمنڈ سے اگر کھلواڑ کیا ہے تو انہیی پختون مسلمانوں نے کیا ہے(یہی اس قوم کا سب سے بڑا جرم تھا ) دوسرا نمبر سویت یونین کا تھا انہوں نے بھی کبھی شکست کا سامنا نہیں کیا تھا انہیں بھی اپنی حاکمیت پر بڑا رشک تھا اور امریکہ جیسے ملکوں کو اپنی گھر کی لونڈی سمجتھا تھا ۔انہے بھی اگر شکست کا مزہ چکایا ہے تو انہی پختون مسلمانوں نے(یہی اس قوم کا سب سے بڑا جرم تھا ) تیسرے نمبر پر سپر پاور کی ڈھول کی تھاپ پر امریکہ آیا اور اپنے ساتھ چالیس ممالک کے افواج بھی ساتھ لایا انہیں شاید اندازہ تھا کہ افغانستان کی سرزمین بڑی کشادہ ہے ہم سب کی قبروں کا وہاں ٹھیک طرح انتظام ہوسکتا ہے۔ اور اس مخلوط افواج کو نیٹو افواج کا نام دے دیا گیا۔ اور اسی طرح اس رنگ برنگے مخلوط سپر پاور طاقت نے اس قوم پر چڑھائی کر دی اور ہر قسم کے جدید اسلحے اور بارود سے ان کی زمینوں کی زرخیزی تباہ و برباد کردی اور ان کے خانوں کو فاسفورس بموں سے نشانہ بنایا گیا اور تو اور پہاڑوں کو بھی تھس نس کردیا لیکن زلت پھر بھی مقدر ٹھہری اور آخر کار یہ اجتماعی ٹولہ بھی ناک رگڑنے پر مجبور ہوگیا اور نیٹو سے ٹٹو افواج بنادئے گئے۔
پھر کیا ہوا ؟ پھر یہ ہوا کہ ان شکست خوردہ قوتوں نے مل کر یہ سوچھنا شروع کردیا کہ آخر کیا وجہ ہے اور کون سے اسباب ہے کہ یہ قوم شکست تو دور قریب سے بھی نہیں گزرتی۔تو بڑی تگ ودو اور ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر مر مٹنے والے غیرت سے لبریز پختون مسلمان ہیں محمد ص کی صورت اور سیرت سے انہے بڑا پیار ہے اور اسی سیرت کی وجہ سے ان کی صورت بھی اکثر وبیش شرع کے مطابق و موافق ہوتی ہے اور اسی ہی وجہ سے ان کے اندر اتحاد و اتفاق بھی اعلی پایہ کا ہوتا ہے۔ جب ہی یہ ہمیشہ فتح کے جھنڈے گاڑ کے آتی ہے اور کبھی مغلوب نہیں ہوتی۔
پھر کیا پھر ؟پھر ہوا یہ کہ اس پختون مسلمان قوم کو اپنا مشترکہ دشمن تسلیم کرلیا گیا ۔اور انہے دنیا کے سامنے دہشت گرد قوم کے طور تعارف کروایا گیا ۔کبھی جعلی کوڑوں کی ویڈیو تو کبھی جعلی ملالاوں کے ذریعے اس قوم پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیا گیا۔اور دنیا کو باور کرایا گیا کہ یہ قوم دہشت کی علامت ہے ان سے ہماری جانو کو خطرہ ہے ۔ لھذا ہم جہاں بھی جیسے بھی اس قوم کا قتل عام کرنا چاہے بچوں کی صورت میں ہو بڑوں کی صورت میں، عورتوں کی صورت میں ہو یا جوانوں کی صورت میں،طلباء کی صورت میں ہو یا علماء کی صورت میں ہم سے کوئی پوچھنے والا نہیں گا ۔
آج یہی تو ہورہا ہے اس قوم کا کوئی پرسان حال نہیں یہ کٹ رہے ہیں تو کٹنے دو؟ یہ مر رہے ہیں تو مرنے دو؟ لیکن مجال ہے کسی حاکم ، سیاست دان،فوجی جرنیل اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کانو پر جو تک رینگی ہو۔ لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئیے کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا ان کا صرف اللہ ہی حافظ ہوتا ہے اور پھر یہاں تو اس کے محبوب رسول کے مہمان تھے سارے ننے منھے پہول ۔وہ رسول جو اپنی حفاظ کے قاتلو کے لئے پورے مہینے بد دعائیں کیا کرتے رہیں۔
تو سوچو تمہارا کیا حشر ہوگا۔
تم نے بئر معونہ کو دھرایا ہے
تم نے کربلا کی یاد تازہ کردی
سوچو اب تمہارا کیا حشر ہوگا
اَللّٰھُمَّ انْصُرْ الاِسلامَ وَ الْمُسْلِمِینَ، وَالْعَنِ الْکَفَرَةَ وَالْمُشْرِکِیْنَ، الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ۔ اَللّٰھُمَّ اھْلِکْھُمْ کَاِھْلَاکِ عَادٍ وَّ ثَمُوْد۔ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیَنَ کَلِمَتِھِمْ، وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھِمْ، وَاَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ، وَخُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔ آمین یا رب العالمین !

0 Comments